میں گھر سے کاروبار کے سلسلے میں 180 کلومیٹر کی دوری پر گیا اور 20 سے 25 دن رہنے کا ارادہ تھا 12 دن بعد گھر آنا پڑا اب نمازوں کا کیا مسئلہ ہوگا؟
آپ نے جب 180 کلومیٹرکی مسافت کا سفر اختیار کیا اور جس جگہ گئے وہاں 20 سے 25 دن رکنے کا ارادہ تھا تو آپ وہاں مقیم ہوگئے،وہاں آپ کو پوری نمازیں ہی ادا کرنی تھیں اگرچہ 12 دن بعد آپ کی واپسی ہوگئی کیونکہ اصل اعتبارکم از کم 15 دن رکنے کی نیت سے اس بستی میں آنے کا ہے،پھر جب آپ گھر آگئے تو اگر وہ آپ کا وطن اصلی ہے تو وہاں آپ پوری نمازیں ادا کریں گے کیونکہ وطن اصلی میں آتے ہی بندہ مقیم ہوجاتا ہے،اب دوبارہ آپ 180 کلومیٹر کی دوری پر جاتے ہیں تو اگر وہاں پندرہ دن یا زیادہ رکنے کا ارادہ ہے تو پوری نمازیں پڑھیں گے اور اگر کم رکنے کا ارادہ ہے تو اکیلے پڑھنے کی صورت میں قصر پڑھیں گے۔بہار شریعت میں ہے:” مسافر اس وقت تک مسافر ہے جب تک اپنی بستی میں پہنچ نہ جائے یا آبادی میں پورے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرلے، یہ اس وقت ہے جب تین دن کی راہ چل چکا ہو۔“
(بہار شریعت،جلد1،حصہ4،صفحہ744)
درمختار میں ہے:”ویبطل وطن الاقامۃبمثلہ وبالوطن الاصلی“یعنی:وطن اقامت اپنے مثل وطن اقامت اور وطن اصلی سے باطل ہوجاتا ہے۔
(درمختار،صفحہ106)