اس طرح کی احادیث ہیں جس میں بیان کیا گیا ہوتا ہے وہ ہم میں سے نہیں،اس کا معنی کیا ہے؟
شارحینِ حدیث نے اس کی مختلف وضاحتیں کی ہیں مثلا وہ ہم میں سے نہیں کا معنی ہمارے طریقے پر نہیں،ہماری دی ہوئی ہدایت پر چلنے والا نہیں وغیرہ۔مکتبہ المدینہ کی کتاب ”وہ میں سے نہیں“ میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:” حضرت علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ہماری سیرت پر عمل پیرا نہیں،ہماری دی ہوئی ہدایت پرگامزن نہیں اور ہمارے اخلاق سے آراستہ نہیں۔“
(وہ ہم میں سے نہیں،صفحہ2)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:” ہماری جماعت سے یا ہمارے طریقہ والوں سے یا ہمارے پیاروں سے نہیں یا ہم اس سے بیزار ہیں وہ ہمارے مقبول لوگوں میں سے نہیں،یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری امت یا ہماری ملت سے نہیں کیونکہ گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا ،ہاں! جو حضرات انبیائے کرام کی توہین کرے وہ اسلام سے خارِج ہے۔“
(مرآۃ المناجیح،جلد6،صفحہ560)