اگر کوئی جعلی ڈگری سے نوکری حاصل کرے تو آمدنی کا کیا حکم ہے؟

اگر کوئی جعلی ڈگری سے نوکری حاصل کرے تو آمدنی کا کیا حکم ہے؟

جعلی ڈگری بنوانا،اس کے لئے پیسے دینا اور اس ڈگری سے نوکری حاصل کرنا جھوٹ،دھوکہ اور رشوت ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے،لہذا اس سے توبہ کرنا لازم ہے،البتہ کسی نے اس ڈگری کے ذریعےجائز نوکری حاصل کرلی اور وہ اجارے کی شرائط کے مطابق اپنا کام درست انداز میں کرتا ہے تو اس کی آمدنی حلال ہے۔بعض کام ایسے ہیں جس میں ڈگری ہی اہلیت کی ضمانت ہوتی ہے مثلا ڈاکٹر یا مفتی،تو ایسے افراد جن میں سرے سے اہلیت ہی نہیں ان کے کام کو ناقص ہی کہا جائے گا اور ان کی آمدنی حلال نہیں ہوگی۔فتاوی رضویہ میں ہے:”بہر حال نفس اجرت کہ کسی فعل حرام کے مقابل نہ ہو حرام نہیں۔“

(فتاوی رضویہ،جلد19،صفحہ501)

مفتی علی اصغر صاحب لکھتے ہیں:” ایک آپریشن وہ ہے جو ایک مستند ڈاکٹر اپنے علم کی بنیاد پر نہ جانے کتنی چیزوں کو ملحوظ رکھ کر کرے گا جبکہ ایک اَتائی ڈاکٹر محض ایک قصاب کی طرح چیر پھاڑ کرے گا، دیکھنے میں دونوں کا کام ایک ہے اور اتائی ڈاکٹر بھی یہی کہے گا کہ میں نے بھی یہی کام کیا ہے جو ایک مستند ڈاکٹر کرتا ہے تو یہ درست نہیں اور اس کی روزی اور تنخواہ کو ہرگز حلال نہیں کہا جا سکتا۔“

(ماہنامہ فیضان مدینہ،اکتوبر 2021)

اپنا تبصرہ بھیجیں