ہمارے ہاں لوگ کہتے ہیں کہ رمضان کے آخری جمعہ کو 4 رکعت پڑھ لی جائے تو عمر بھر کی قضانمازیں ادا ہوجاتی ہیں کیا یہ درست ہے؟
رمضان کے آخری جمعہ کو چار رکعت ادا کر کے یہ سمجھنا کہ عمر بھر کی قضا نمازیں ادا ہوگئیں،باطل و من گھڑت ہے اور شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ شرعی حکم یہ ہے کہ جس کی نماز قضا ہوگئی وہ اس کو پڑھنی ہی ہوگی اور قضا کے گناہ سے توبہ بھی لازم ہے۔بخاری شریف کی حدیث ہے:”من نسی صلاۃ فلیصل اذا ذکرھا لا کفارۃ لھا الا ذالک“ترجمہ: جو نماز ادا کرنا بھول گیا اس کو چاہیے کہ جب یاد آئے تو نماز پڑھ لے کیونکہ نماز کی ادائیگی کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں۔
(بخاری،حدیث597)