اگر کسی کے پاس 2 تولہ سونا،2 تولہ چاندی اور کچھ نقدی ہو تو زکوۃ کیسے دیں؟
اگر کسی کے پاس اموال زکوۃ میں سے مختلف چیزیں ہوں مگر کوئی بھی اپنے نصاب کو نہ پہنچتی ہو تو تمام چیزوں کو ملا کر ان کی قیمت نکالی جائے گی،اگر ان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہوجاتی ہے تو ان کی مالیت پر ڈھائی فیصدزکوۃ دینا فرض ہے۔فتاوی اہلسنت میں ہے:”اور اگر اس کے پاس کچھ چاندی ہےاور کچھ سونا یا اس کے ساتھ کچھ رقم بھی ہے ،گر سونا یا چاندی اور رقم میں سے کوئی بھی نصاب کی مقدار نہیں تو اس صورت میں چاندی کے حساب سے زکوۃ دیں گے یعنی اس سونے کو چاندی شمار کریں گے وہ اس طرح کہ ان دونوں کی قیمت کا تعین کریں گے پھر دیکھیں گے کہ یہ سونا اس چاندی یا رقم سے مل کرچاندی کی نصاب ساڑھے باون تولہ کی مقدار ہے یانہیں،اگر نہ ہو تو زکوۃ نہیں اور اگر ہو تو زکوۃ ہے۔“
(فتاوی اہلسنت،احکام زکوۃ،صفحہ214)