زکوۃ کا حساب کرتے ہوئے تکافل میں جمع کروائی گئی رقم کو شامل کریں گے؟

زکوۃ کا حساب کرتے ہوئے تکافل میں جمع کروائی گئی رقم کو شامل کریں گے؟

ہمارے نزدیک تکافل کا رائج طریقہ شرعی خرابیوں پر مشتمل ہےالبتہ جو رقم جمع کروائی ہے وہ بطور انویسمنٹ کاروبار میں لگی ہوئی ہے لہذا اگر وہ خود یا دیگر اموال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچے اور دیگر شرائط پائی جائیں تو اس پر زکوۃ فرض ہوگی۔تنویر الابصار میں ہے:”اللازم فی عرض تجارۃ قیمتہ نصاب من ذھب او ورق مقوما باحدھما ربع عشر“ترجمہ:تجارت کو وہ سامان جس کی قیمت سونے یا چاندی کے نصاب یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابر ہوں تو اس میں چالیسواں حصہ زکوۃ لازم ہے۔

(درمختار مع تنویر الابصار،ص131)

اپنا تبصرہ بھیجیں