بینک سے کاٹی گئی زکوۃ کا حکم کیا ہے؟

بینک سے کاٹی گئی زکوۃ کا حکم کیا ہے؟

ہماری معلومات کے مطابق بینک سے کاٹی جانے والی زکوۃ مستحقین زکوۃ پرخرچ نہیں کی جاتی لہذا بینک سے کاٹی جانے والی زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔وقار الفتاوی میں ہے:”حکومت مال زکوۃ وصول کر کے جس طرح خرچ کرتی ہے وہ صحیح نہیں ہے۔زیادہ روپیہ ایسی جگہ خرچ کیا جاتا ہے جہاں کوئی مالک نہیں ہوتا ہے لہذا زکوۃ ادا نہیں ہوتی۔“

(وقار الفتاوی،جلد2،صفحہ414)

اپنا تبصرہ بھیجیں