روزے کی حالت میں منہ سے خون نکلے تو روزے پر کیا اثر پڑے گا؟

روزے کی حالت میں منہ سے خون نکلے تو روزے پر کیا اثر پڑے گا؟

خون اگر حلق سے نیچے اترا اور وہ تھوک سے زیادہ یا برابر تھا تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگر خون تھوک کے برابر تھا مگر ذائقہ حلق میں محسوس ہوا تو بھی روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگر خون تھوک سے کم تھا اور ذائقہ محسوس نہ ہوا تو روزہ نہیں ٹوتے گا۔در مختار میں ہے:”اما اذا وصل فان غلب الدم او تساویا فسد،والا لا،الا اذا وجد طعمہ“ترجمہ:بہرحال اگر دانتوں سے خون نکلا اورحلق سے نیچے اترا تو اگرخون تھوک سے زیادہ یا برابر ہے تو روزہ ٹوٹ گیا اور اگر تھوک سے کم ہے تو روزہ نہ گیا مگر یہ کہ کم ہونے کی صورت میں حلق میں ذائقہ محسوس ہوا تو روزہ ٹوٹ جائے گا ۔

(درمختار،جلد3،صفحہ422،دار المعرفہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں