جماعت چھوڑنے والے کی امامت کا کیا حکم ہے؟

جماعت چھوڑنے والے کی امامت کا کیا حکم ہے؟

جس پر مسجد کی جماعت واجب ہے اور وہ بلا عذر شرعی جماعت ترک کرنےکا عادی ہے تو ایسا شخص فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا ناجائز ہے،اگر ایسےکے پیچھے نماز پڑھی تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی۔فتاوی رضویہ میں ہے:” مگرفرائض بے عذرقوی مقبول اگرحجرہ میں پڑھے اور مسجد میں نہ آئے ، گنہگار ہے، چندبار ایساہو ، توفاسق ، مردود الشہادۃ ہوگا۔“

(فتاوی رضویہ ،جلد7،صفحہ393/394)

ایک جگہ ہے:” فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اوراس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔“(فتاوی رضویہ،جلد6،صفحہ600)

اپنا تبصرہ بھیجیں