تراویح سنت ہے یا واجب؟
تراویح مرد عورت سب کے لئے سنت مؤکدہ ہے،اگر کسی نے ایک آدھ بار چھوڑی تو برا کیا اور اگر چھوڑنے کی عادت بنا لی تو گناہ گار ہوگا۔درمختارمیں ہے: (التراويح سنة) موكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) إجماعا“ ترجمہ: تراویح مرد و عورت کے لئے بالاتفاق سنت مؤکدہ ہے کیونکہ صحابہ کرام نے اس پر ہمیشگی اختیار فرمائی ہے۔
(درمختار،کتاب الصلاۃ،باب الوتر و النفل،صفحہ 94،دار الکتب العلمیہ)
بہار شریعت میں ہے:” اس کا ترک جائز نہیں۔“(بہار شریعت،جلد1،صفحہ688)