منڈی میں آڑھتی مالک سے کمیشن طے کرتا ہے اور اور رقم آنے پر اپنا کمیشن کاٹ کر رقم واپس کردیتا ہے،مالک کہتا ہے تم پیسے مال بیچنے سے پہلے دے دو میں کمیشن زیادہ دوں گا ایسا کرنا کیسا؟
مالک کا پہلے پیسے وصول کر کے زیادہ کمیشن دینا ناجائز اور سودی معاملہ ہے اس لئے کہ آڑھتی مال بیچنے سے پہلے جو رقم مالک کو دے گا اس کی حیثیت قرض کی ہے کیونکہ آڑھتی مشتری نہیں جو وہ ثمن کی ادائیگی کرے بلکہ وہ اجرت پر کام کرنے والا ہے اور اس قرض کی بنیاد پر وہ مشروط نفع حاصل کر رہا ہے جو کہ سود ہے۔حدیث پاک میں ہے:”کل قرض جر منفعۃ فھو ربا“ترجمہ: ہر وہ قرض جو نفع لے کر آئے سود ہے۔
(نصب الرایہ،جلد4،صفحہ60)