مکروہ اوقات میں اگر کسی نے نفل نماز شروع کردی تو کیا حکم ہے؟
اگر کسی نے مکروہ اوقات میں نفل نماز شروع کردی تو وہ نماز واجب ہوگئی مگراس نماز کو مکروہ وقت میں پڑھنا جائز نہیں بلکہ حکم یہ ہے کہ اس نماز کو توڑ دے اور غیر مکروہ وقت میں اس نماز کو پورا کرے اور اگر مکروہ وقت میں ہی اس کو مکمل کیا تو گناہ گار ہوگا مگر اب نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب نہیں،جس نے جان کر مکروہ وقت میں نفل نماز شروع کی وہ اس فعل سے بھی توبہ کرے۔بہار شریعت میں ہے:” ان وقتوں میں نفل نماز شروع کی تو وہ نماز واجب ہوگئی، مگر اس وقت پڑھنا جائز نہیں ، لہٰذا واجب ہے کہ توڑ دے اور وقت کامل میں قضا کرے اور اگر پوری کر لی تو گنہگار ہوا اور اب قضا واجب نہیں۔“
(بہار شریعت،جلد1،صفحہ455)