آئی وی ایف یا ٹیسٹ ٹیوب بے بی جائز ہے یا نہیں؟

آئی وی ایف یا ٹیسٹ ٹیوب بے بی جائز ہے یا نہیں؟

کسی کمزوری کے سبب اگر عورت کے ہاں بچہ نہ ہو رہا ہو تو آج کے دور میں اولاد کے حصول کا ایک ذریعہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی ہے۔اس جدید طریقے میں مرد کے تولیدی جرثوموںsperms کو عورت کے انڈوںovumکے ساتھ ٹیوب میں ملا کر عورت کے رحمuterus میں رکھا جاتا ہے۔ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے تین طریقے معروف ہیں۔پہلا:بے اولاد شوہر اور بیوی ہی کے جرثوموں اور انڈوں کو ملا کر بیوی کے رحم میں رکھا جاتا ہے۔دوسرا: کسی اور کے جرثومے یا انڈے لے کر اس عورت کے رحم میں ٹیوب کو رکھا جاتا ہے۔تیسرا: شوہر کے جرثوموں اور بیوی کے انڈوں کو ملا کر کسی اور عورت کے رحم میں منتقل کیا جاتا ہے۔پہلا طریقہ چند شرائط کے ساتھ جائز ہے باقی دونوں مطلقا ناجائز۔پہلی شرط: شوہر کے جرثوموں اور بیوی کے انڈوں کو ملا کر ٹیوب کو شوہر یا بیوی ہی رحم میں داخل کریں گے، کوئی اور مرد یا لیڈی ڈاکٹر یہ کام نہیں کر سکتی کیونکہ مرد یا عورت بھی بلا ضرورت شدیدہ عورت کے ستر کو نہیں دیکھ سکتے اور اس طرح اولاد کا حصول شرعی ضرورت نہیں۔یہ صورت انتہائی مشکل ہے کیونکہ یہ کام مکمل ڈاکٹری اسٹاف کے ساتھ کیا جاتا ہے اکیلے شوہر یا بیوی کا ایسا کرنا بے حد مشکل ہے،بہر حال شوہر یا بیوی اگر یہ عمل تنہا کر سکتے ہوں تو جائز ہوگا ورنہ نہیں۔دوسری شرط:شوہر مشت زنی Masturbation نہیں کرے گا بلکہ بیوی کے ہاتھ سے ہو یا عزل کے طریقے پر ہو۔(جماع کرتے وقت جب انزال کا وقت آئے تو شوہر اپنا عضو باہر کرلے اور نطفہ محفوظ کرلے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں