اگر کوئی شخص مرتے وقت کلمہ طیبہ نہ پڑھے تو اس کا خاتمہ ایمان پر ہوتا ہے یا نہیں؟
جب تک دلیل شرعی سے کسی کا کفر پر مرنا ثابت نہ ہو اس وقت تک کسی خاص شخص کے متعلق یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے یا نہیں،لہذا کسی نے مرتے وقت کلمہ نہ پڑھا تو ہرگز یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوا،ہاں! ہمارے سامنے جو مسلمان تھا اور اس سے کوئی قول یا فعل خلاف ایمان نہ ہوا تو اس کو مسلمان جاننا فرض ہے۔بہار شریعت میں ہے:”مسلمان کو مسلمان، کافر کو کافر جاننا ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ کسی خاص شخص کی نسبت یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا خاتمہ ایمان یا معاذاﷲ کفر پر ہوا، تاوقتیکہ اس کے خاتمہ کا حال دلیلِ شرعی سے ثابت نہ ہو، مگر اس سے یہ نہ ہوگا کہ جس شخص نے قطعاً کفر کیا ہو اس کے کُفر میں شک کیا جائے، کہ قطعی کافر کے کفر میں شک بھی آدمی کو کافر بنا دیتا ہے۔۔۔ جو ظاہراً مسلمان ہو اور اُس سے کوئی قول و فعل خلافِ ایمان نہ ہو، فرض ہے کہ ہم اسے مسلمان ہی مانیں، اگرچہ ہمیں اس کے خاتمہ کا بھی حال معلوم نہیں۔“
(بہار شریعت،جلد1،حصہ1،صفحہ185)