ایک شخص نے کہا کہ اگر بچہ پیدا ہوا اور اس بچے کو پانی میں ڈالا گیا تو پانی پاک رہے گا اس سے وضو اور غسل بھی کر سکتے ہیں کیا ایسا کہنا درست ہے؟
پیدائشی بچے پر اگر نجاست کا اثر ہواور اسےقلیل پانی میں ڈالا گیا تو پانی ناپاک ہوجائے گا،اور وضو و غسل کے قابل نہیں رہے گا،اور اگر نجاست کا کوئی اثر نہیں تو چونکہ نابالغ کو حدث(بے وضوئی) لاحق نہیں ہوتا اور پیدائشی بچہ کسی نیت کا اہل بھی نہیں لہذا اس کو پانی میں ڈالنے سے پانی مستعمل نہیں ہوگا اور پانی وضو و غسل کے قابل بھی رہے گا۔اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”نابالغ اگرچہ ایک دن کم پندرہ برس کا ہو جبکہ آثار بلوغ مثل احتلام وحیض ہنوز شروع نہ ہوئے ہوں اُس کا پاک بدن جس پر کوئی نجاست حقیقیہ نہ ہو اگرچہ تمام وکمال آب قلیل میں ڈوب جائے اُسے قابلیت وضو وغسل سے خارج نہ کرے گا لعدم الحدث(ناپاک نہ ہونے کی وجہ سے) اگرچہ بحال احتمال نجاست جیسے ناسمجھ بچّوں میں ہے بچنا افضل ہے ہاں بہ نیت قربت سمجھ وال بچّہ سے واقع ہو تو مستعمل کر دے گا۔“
(فتاوی رضویہ،جلد2،صفحہ114)