ہم جب کسی بینک کا اے ٹی ایم کسی اور بینک میں استعمال کرتے ہیں تو وہاں چارجز لگتے ہیں اس کے لئے کیا حکم ہے؟

ہم جب کسی بینک کا اے ٹی ایم کسی اور بینک میں استعمال کرتے ہیں تو وہاں چارجز لگتے ہیں اس کے لئے کیا حکم ہے؟

کسی بینک کا اے ٹی ایم دوسری بینک کے اے ٹی ایم مشین میں استعمال کرنے پر جو پیسےلگتے ہیں وہ ان کی طرف سے سروس چارجز ہوتے ہیں اور عموما لوگوں کو بینک پالیسی معلوم ہوتی ہے کہ کتنے پیسوں پر کتنی رقم کٹے گی لہذا اس کا لینا دینا جائز ہے۔مرشد الحیران میں ہے:”تجب الاجرۃ فی الاجارۃ الصحیحۃ بتسلیم العین المؤجرۃ للمستاجرواستیفائہ المنفعۃ فعلا او بتمکنہ من استیفائھا بستلیمھا لہ ولو لم یستوفھا“یعنی:اجرت واجب ہوجاتی ہے اجارہ صحیحہ میں چیز کے مالک کے چیز کو کرائے پر لینے والے کے سپرد کردینے کے سبب اور فعلا منفعت کے حصول کے سبب یا اس چیز سے فائدہ حاصل کرنے پر قدرت پا لینا مالک کے اس چیز کے سپرد کرنے کے سبب اگرچہ وہ اس کو پورا حاصل نہ بھی کرے۔

(مرشد الحیران،صفحہ77،المطبعۃ الکببری)

اپنا تبصرہ بھیجیں