بعض لوگ کہتے ہیں کہ جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے کیونکہ امام ترمذی نے اس پر پورا باب باندھا ہے اور حدیث نقل کی ہے اور امام اعظم نے اپنے قول سے رجوع کرلیا تھا؟

بعض لوگ کہتے ہیں کہ جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے کیونکہ امام ترمذی نے اس پر پورا باب باندھا ہے اور حدیث نقل کی ہے اور امام اعظم نے اپنے قول سے رجوع کرلیا تھا؟

جرابوں پر مسح کرنے کے حوالے امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے باب ضرور باندھا ہے اور حدیث بھی نقل کی ہے مگر وہ جرابیں کیسی ہونی چاہیے اس کی وضاحت شارحین حدیث نے کی ہے۔شارحین نے فرمایا کہ جرابوں پر مسح تین صورتوں میں جائز ہے:منعل،مجلد اور ثخین۔منعل یعنی ایسی جرابیں جس کا تلا چمڑے کا ہو۔مجلد یعنی ٹخنوں تک کا حصہ چمڑے کا ہو۔ثخین یعنی اتنی موٹی کہ تنہا ان کو پہن کر تین میل کا سفر کریں تو نہ پھٹیں،اور پانی اس میں فورا سرایت نہ کرے اور باندھے بغیر پاؤں پر رکی رہیں۔پہلی دو قسم کی جرابوں پر بالاتفاق مسح کرنا جائز ہے جبکہ تیسری قسم کی جرابوں پر مسح کرنا صاحبین کے نزدیک جائز جبکہ امام اعظم کے نزدیک ناجائز ہے لیکن فتوی صاحبین کےقول پر ہے اور یہ مشہور ہے کہ امام اعظم نے اپنے قول سے رجوع کرلیا تھا اور صاحبین کے موقف کو اختیار کیا تھا۔سوتی یا اونی جرابوں پر مسح نہیں ہو سکتا۔علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”الحدیث محمول علی ذلک ومراد منہ ذلک“یعنی:حدیث محمول ہے مجلد و منعل ہونے پراور جرابوں سے ایسی جراب ہی مراد ہے۔

(شرح ابی داؤد للعینی،جلد1،صفحہ374،مکتبہ الرشد)

شارح ترمذی مفتی ہاشم صاحب دامت برکاتہم العالیہ ترمذی کی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:” امام اعظم کے نزدیک اُسی موزے پر مسح جائز ہے جو چمڑے کا ہو یا کم از کم تلا چمڑے کا ہو۔ اور صاحبین نے فرمایا کہ اگر موزے اتنے موٹے ہوں کہ پانی فورا ان میں سرایت نہ کرے تو مسح جائز ہے کیونکہ روایت ہے نبی اکرم علیہ الصلوۃ والسلام نے پائتابوں (بغیر چمڑے کے موزوں) پر مسح فرمایا۔ نیز ایک وجہ یہ ہے کہ ایسے موزوں میں چلنا ممکن ہے جبکہ وہ ثخین یعنی ایسے ہوں کہ کسی چیز سے باندھے بغیر وہ موزے ٹانگوں سےچمٹے رہیں لہذا ان کا حکم موزے جیسا ہے۔ امام اعظم کی دلیل یہ ہے کہ وہ خف کے معنی میں نہیں کیونکہ اس میں لگاتا ر چلنا ممکن نہیں مگر یہ کہ ان کا تلا چمڑے کا ہو اور حدیث پاک کا عمل بھی یہی ہے منقول ہے کہ امام اعظم نے اپنے اس قول رجوع کر لیا اور صاحبین کا موقف اختیار کر لیا۔ اور اسی پر فتوی ہے۔“

(شارح ترمذی،جلد1،صفحہ792)

اپنا تبصرہ بھیجیں