اگر کسی کے ذمے قضا نمازیں ہوں اور وہ تہجد پڑھے تو کیا تہجد کا ثواب ملے گا؟
قضا نمازوں کو جلد سے جلد ادا کرلینا چاہیے یہاں تک کہ فقہاء نےفرمایا کہ قضا نمازیں نوافل کی ادائیگی سے بہتر اور اہم ہیں لیکن جن نوافل کی احادیث میں ترغیب ہے ان کو ادا کرنے سے ثواب حاصل ہوگا۔امیر اہلسنت مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:”فتاوٰی شامی میں ہے:قضانمازیں نوافل کی ادائیگی سے بہتر اور ا ہم ہیں مگر سنت موکدہ ،نماز چاشْتْ،صلوۃ التسبیح اوروہ نمازیں جن کے بارے میں احادیث مبارکہ مروی ہیں یعنی جیسے تحیۃ المسجِد ، عصْر سے پہلے کی چار رکعت(سنت غیر مُؤَکدہ ) اور مغرِب کے بعد چھ رَکْعتیں ۔(پڑھی جائیں گی)(رَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۴۶) یاد رہے !قَضا نَما ز کی بِنا پر سنت مُؤَکدہ چھوڑنا جائز نہیں ، البتہ سنت غیرموکَدہ اور حدیثوں میں وارِد شُدہ مخصوص نوافِل پڑھے تو ثواب کا حقدار ہے مگر انہیں نہ پڑھنے پر کوئی گناہ نہیں ،چاہے ذمے قضا نماز ہو یا نہ ہو۔“
(قضا نمازوں کا طریقہ،صفحہ15)