شیشہ پینا شرعا کیسا ہے؟

شیشہ پینا شرعا کیسا ہے؟

شیشہ پینافی نفسہ مباح ہے لیکن طبی اعتبار سے بہت نقصان دہ ہے اور کئی مقامات پر قانونی پابندی بھی ہے،لہذا جس کو شیشہ پینے سے فوری ضرر کا اندیشہ ہو اس کے لئے پینا جائز نہیں،اسی طرح جہاں قانونی پابندی ہو وہاں پینا بھی منع ہے۔اسی طرح اگر شیشے میں نشہ آور مواد ڈالا جائے تو اس کا پینا بھی جائز نہیں ہوگا۔امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:” رہا حقہ نوشی کا تمباکو نوشی کا مسئلہ، تو اگر وہ عقل اور حواس میں فتور پیدا کرے جیسا کہ رمضان شریف میں افطار کے وقت ہندوستان کے جاہلوں کا معمول ہے تو یہ بطور خود حرام ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ایک حدیث کی وجہ سے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر نشہ اور فتورپیدا کرنے والی چیز کا استعمال ممنوع ہے۔ امام احمد اور ابوداؤد نے سند صحیح کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے ورنہ اگر اسے معمول نہ بنائیں لیکن قابل نفرت بدبو پیدا ہو جائے تو مکروہ تنزیہہ اور خلاف اولٰی ہے جیسے کچا لہسن اور پیاز استعمال کرنا اور اگر اس سے بھی خالی ہو یعنی بدبو وغیرہ نہ ہو تو مباح ہے۔“

(فتاوی رضویہ،جلد23،صفحہ300،299)

اپنا تبصرہ بھیجیں