کیا عورت ولیہ ہوسکتی ہے؟

کیا عورت ولیہ ہوسکتی ہے؟

عورت کا ولیہ ہونا نہ صرف ممکن بلکہ ثابت ہے۔قرآن پاک میں بی بی مریم رضی اللہ عنھا کی کرامات کا ذکر موجود ہے،آپ رضی اللہ عنھا ولیہ تھیں۔اسی طرح تمام کی تمام صحابیات ولیہ تھیں۔اس کے علاوہ کئی خواتین ولیہ ہوئیں جن کا ذکر کتب میں موجود ہے۔اللہ پاک نے فرمایا:”وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ“ترجمہ:اور (یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا، اے مریم، بیشک اللہ نے تمہیں چن لیاہے اور تمہیں خوب پاکیزہ کردیا ہے اور تمہیں سارے جہان کی عورتوں پر منتخب کرلیا ہے۔

(آل عمران:42)

تفسیر:”اس آیت میں حضرت مریم رضی اللہ عنھاکی شان کا بیان ہے ۔ اللہ تعالٰی نے انہیں بہت سے فضائل کیلئے منتخب فرمالیا مثلاً: عورت ہونے کے باوجود بیتُ المقدس کی خدمت کے لیے انہیں نذر میں قبول فرما لیا حالانکہ صرف مردوں کو ہی منتخب کیا جاتا تھا۔ لہٰذایہ بات ان کے سوا کسی عورت کو مُیَسَّر نہ ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنھا کیلئے جنتی رزق بھیجا گیا، حضرت زکریا علیہ السلام کو ان کا کفیل بنایا گیا، نیز اللہ تعالٰی کی طرف سے انہیں یہ فضیلتیں فرشتوں کی زبان سے سنائی گئیں۔ مزید حضرت مریم رضی اللہ عنھا کو اللہ تعالٰی نے گناہوں سے اور مردوں کے ان پر قدرت پانے سے پاکیزہ بنایا اورانہیں سارے جہان کی عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی کہ بغیر باپ کے بیٹا دیا اور ملائکہ کا کلام سنوایا۔“

(صراط الجنان،جلد1،صفحہ476)

اپنا تبصرہ بھیجیں