دوران نماز کسی کو چکر آجائیں اور وہ بے ہوش ہوجائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟
نماز کے دوران اگر کسی پر بے ہوشی طاری ہوجائے تو نماز ٹوٹ جائے گی،اگر وقت کے اندر ہوش آجائے تو اس نماز کو ادا کرنا لازم ہے اور اگر وقت گزرنے کے بعد ہوش آیا تو اب قضا کر کے پڑھنی ہوگی،البتہ بے ہوشی ایک دن رات سے تجاوز کرجائے تو اب قضا کرنے کا حکم نہیں۔درمختار میں ہے:”بقی من المفسدات:اغماء“یعنی:نماز کے باقی مفسدات میں سے بے ہوشی ہے۔
شامی میں اس کے تحت ہے:”فاذا افاق فی الوقت وجب اداؤھا،وبعدہ یجب القضاء ما لم یزد الجنون و الاغماء علی یوم و لیلۃ“یعنی:تو جب وقت کے اندر افاقہ ہوجائے تو نماز ادا کرنا واجب ہے اور وقت کے بعد ہوا تو قضا لازم ہے جب تک جنون اور بے ہوشی ایک دن رات سے تجاوز نہ کرجائے۔
(در مع شامی،جلد2،صفحہ472)