میں نے سیالکوٹ ائیر پورٹ سے عمرہ کا احرام باندھا اور جدہ پہنچ گیا مگر ویزہ میں بھی پرابلم کی وجہ سے مجھے واپس بھیج دیا گیا اب میرے لئے کیا حکم ہے؟

میں نے سیالکوٹ ائیر پورٹ سے عمرہ کا احرام باندھا اور جدہ پہنچ گیا مگر ویزہ میں بھی پرابلم کی وجہ سے مجھے واپس بھیج دیا گیا اب میرے لئے کیا حکم ہے؟

اگر واقعی آپ کو جدہ میں کسی پرابلم کے سبب عمرہ کرنے سےروک دیا گیا تواگر وہ مسئلہ ایسا ہے جوچند دنوں میں حل ہو سکتا ہےتو اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں اور اس دوران احرام کی پابندیوں میں رہنا ہوگا،مسئلہ حل ہونے پر عمرہ کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ہاں اگر مسئلہ ایسا ہے جس میں کافی دن لگیں گےاور آپ کو واپس بھیج دیا گیا ہے تو اس صورت میں آپ احرام میں رہ کر مسئلہ حل کروا کر واپس عمرہ کی ادائیگی کے لئے بھی جا سکتے ہیں اور محصر کے حکم پر بھی عمل کرسکتے ہیں۔ محصر کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ خود یا کسی کو وکیل بنا کر حدود حرم میں دم دے،جب دم کا جانور ذبح ہوجائے گا تو وہ احرام سے باہر آجائے گا،جب تک دم کی ادائیگی نہیں ہوتی اسے احرام کی پابندیوں میں رہنا ہوگا۔یہاں یہ بھی یاد رہے کہ بعد میں اس رہ جانے والے عمرہ کی قضا کرنی ہوگی۔علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:” و الاحصار فیھا ھو المنع عن الطواف ای بعد الاحرام بھا او بھما “یعنی:اور عمرہ میں احصار طواف سے روکنا ہے عمرہ کے احرام کے بعد یا حج و عمرہ کے احرام کے بعد۔

(مناسک الملا علی القاری،صفحہ580)

عالمگیری میں ہے:” و اما حکم الاحصار فھو ان یبعث بالھدی او بثمنہ لیشتری بہ ھدیاً و یذبح عنہ ما لم یذبح لا یحل ۔۔فیحل بعد الذبح و لا یحل قبلہ حتی لو فعل شیئا من محظورات الاحرام قبل ذبح الھدی یجب علیہ ما یجب علی المحرم اذا لم یکن محصراً“یعنی:تو بہرحال احصار کا حکم یہ ہے کہ حرم میں جانوریا اس کی قیمت بھیجے تاکہ جانور خریدا جائے اور اس کی طرف سے ذبح کیا جائے جب تک ذبح نہیں کیا جائے احرام سے باہر نہیں ہوگا تو ذبح کے بعد حلال ہوجائے گا اس سے پہلے نہیں یہاں تک کہ اگر ممنوعات احرام میں سے کچھ کیا جانور ذبح ہونے سے پہلے تو اس پر واجب ہوگا وہ جو غیر محصر محرم پر لازم ہوتا ہے۔

(عالمگیری،جلد1،صفحہ255)

اپنا تبصرہ بھیجیں