بعض عورتیں حمل ہونے کے بعد لوہے کا کڑا پہن لیتی ہیں تاکہ نظر نہ لگے ایسا کرنا کیسا؟

بعض عورتیں حمل ہونے کے بعد لوہے کا کڑا پہن لیتی ہیں تاکہ نظر نہ لگے ایسا کرنا کیسا؟

عورت کو لوہے کا کڑا پہننا جائز ہے اور نظر نہ لگنے کے مقصد سے پہننا ایک ٹوٹکا ہے جو شریعت سے نہیں ٹکڑاتا لہذا اس میں بھی حرج نہیں۔ مفتی ہاشم صاحب دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:”ہمارے دور کے جید علمائے کرام نے بوجہ عمومِ بلوٰی و حرج عورتوں کے لئے سونا چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں سے بنی ہوئی آرٹیفشل جیولری کے جواز کا فتویٰ دیا ہے لہٰذا عورتیں لوہا ، پیتل یا دیگر دھاتوں کا بنا ہوا زیور پہن سکتی ہیں اگرچہ وہ دو دھاتوں کو ملا کر بنایا گیا ہو۔“

( ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الآخر 1442)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”عوام میں مشہور ٹوٹکے اگر خلافِ شرع نہ ہوں تو ان کا بند کرنا ضروری نہیں۔۔۔ جیسے دواؤں میں نقل (شریعت کی منقول دلیل) کی ضرورت نہیں، تجربہ کافی ہے۔ ایسے ہی دعاؤں اور ایسے ٹوٹکوں میں نقل (شریعت کی منقول دلیل) ضروری نہیں۔ خلافِ شرع نہ ہوں تو درست ہیں۔اگرچہ ماثور دعائیں افضل ہیں۔“

(مراۃ المناجیح، جلد6، صفحہ224)

اپنا تبصرہ بھیجیں