کیا اللہ کے علاوہ کسی اور سے ڈرنا چاہیے؟ایک مقرر کو کہتے سنا کہ انبیاء کرام بھی بعض معاملات میں مخلوق سے ڈرتے تھے۔
انبیاء کرام علیھم السلام کی طرف ادب والے جملوں کی نسبت کی جانی چاہیے۔انبیاء کرام علیھم السلام کو بعض چیزوں کا طبعی خوف ہونا ثابت ہے جیسا کہ اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کے عصا کو جب اژدھا بنایا تو موسی علیہ السلام کو اس سے طبعی خوف ہوا۔اللہ پاک قرآن میں فرماتا ہے:” قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى“ترجمہ:فرمایا: اے موسیٰ اسے ڈال دو۔ تو موسیٰ نے اسے (نیچے) ڈال دیا تو اچانک وہ سانپ بن گیا جو دوڑ رہا تھا۔ ( اللہ نے) فرمایا: اسے پکڑ لو اور ڈرو نہیں ، ہم اسے دوبارہ اس کی پہلی حالت پر لوٹادیں گے۔
(طہ:19 تا21)
تفسیر:” حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے عصا زمین پر ڈال دیا تووہ اچانک سانپ بن کر تیزی سے دوڑنے لگا اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو کھانے لگا۔ یہ حال دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو (طبعی طور پر) خوف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ارشاد فرمایا: اسے پکڑ لو اور ڈرو نہیں ، ہم اسے دوبارہ پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ یہ سنتے ہی حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا خوف جاتا رہا، حتّٰی کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا دستِ مبارک اس کے منہ میں ڈال دیا اور وہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ لگاتے ہی پہلے کی طرح عصا بن گیا۔“
(صراط الجنان،جلد6،صفحہ179)