لباس میں جاندار کی تصویر ہو تو اسے چھپا کر نماز

لباس میں جاندار کی تصویر ہو تو اسے چھپا کر نماز

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ شرٹ پر جاندار کی تصویر بنی ہوئی ہو اور اسے کسی چادر وغیرہ کے ذریعے چھپا دیا جائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

User ID:محی الدین

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ جاندار کی تصویر والا لباس پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے البتہ اگر تصویر کو کسی کپڑے سے چھپا دیا تو اب نماز مکروہ نہیں ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ ایسا لباس پہن کر نماز نہ پڑھی جائے ۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے بہار شریعت میں در مختار کے حوالے سے لکھا ہے:اگر ہاتھ میں یا اور کسی جگہ بدن پر تصویر ہو، مگر کپڑوں سے چھپی ہو، یا انگوٹھی پر چھوٹی تصویر منقوش ہو، یا آگے، پیچھے، دہنے، بائیں ، اوپر، نیچے کسی جگہ چھوٹی تصویر ہو یعنی اتنی کہ اس کو زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو اعضا کی تفصیل نہ دکھائی دے، یا پاؤں کے نیچے، یا بیٹھنے کی جگہ ہو، تو ان سب صورتوں میں نماز مکروہ نہیں ۔

(بہار شریعت، جلد1،حصہ3 ، صفحہ 632،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

25رجب المرجب 1444ھ/ 6فروری 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں