مکہ جاکرمسجدعائشہ سے احرام باندھنا

سوال:زید پاکستان سے کام کے سلسلے میں مکہ گیااورکچھ عرصے کے بعد مسجدِ عائشہ سے عمرہ کرلیااس میں دم تولام نہیں؟

User ID: Fazalamin Shah

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

زید پربیرونِ میقات سے ڈائریکٹ مکہ جانے کی وجہ سے اس پرواجب تھاکہ میقات سے عمرہ یاحج کا احرام باندھےجب اس نے ایسانہ کیا تواس پردم اور عمرہ یاحج کی قضالازم آئی۔ہاں اگریہ میقات واپس آکراحرام باندھ کرعمرہ کرلیتاتواس کادم ساقط ہوجاتا۔اس نے مسجدِ عائشہ سے احرام باندھاجوکہ میقات کے اندرحِل میں ہے لہذااسکادَم ساقط نہیں ہوا۔

تبیین شرح کنز میں ہے: ثم الآفاقي إذ انتهى إلى الميقات على قصد دخول مكة عليه أن يحرم قصد الحج أو العمرة أو لم يقصد عندنا۔۔۔ روى ابن عباس أنهﷺ «قال لا يدخل أحد مكة إلا بالإحرام» الحديث؛ ولأن الإحرام لتعظيم هذه البقعة الشريفة فيستوي فيه التاجر والمعتمر وغيرهما۔ترجمہ:آفاقی نے مکہ جانے کاقصد کیاتومیقات سے احرام باندھناضروری ہے چاہےحج یاعمرہ کاارادہ ہویانہ ہو۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کوئی بھی مکہ میں بلااحرام داخل نہ ہو۔نیزاحرام اس شرف والی جگہ کی عظمت کی وجہ سے ہے تواس میں عمرہ والاتاجریااورلوگ برابرہیں۔(تبیین الحقائق،کتاب الحج،جلد2،ص7،قاھرہ)

درمختار میں ہے: (فإن عاد) إلى ميقات ما (ثم أحرم أو) عاد إليه حال كونه (محرما لم يشرع في نسك) صفة: محرما كطواف ولو شوطا، وإنما قال (ولبی)۔۔۔ (سقط دمه)۔ ترجمہ:واپس میقات آکراحرام باندھ لیایااحرام تواندرونِ میقات باندھ لیاتھالیکن طواف شروع نہ کیاتھا توواپس میقات پرآکرتلبیہ کہہ لی تودم ساقط ہوگیا۔ (شامی،کتاب الحج، ج2،ص580،بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

تیموراحمدصدیقی

24جمادی الثانی 1445ھ/08جنوری 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں