عاقلہ بالغہ لڑکی کا زبردستی نکاح

عاقلہ بالغہ لڑکی کا زبردستی نکاح

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بالغہ لڑکی کا نکاح والدین نے زبردستی کیا تو نکاح ہو جائے گا؟

User ID:ثناء خان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی نے نکاح کی اجازت دے دی یا قبول کر لیا تو نکاح منعقد ہو جائے گا چاہے زبردستی اس سے قبول کروایا گیا ہو یا رضا مندی سے، کیونکہ عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کی اجازت سے ہونا ضروری ہے چاہے اجازت رضامندی سے دے یا مجبور ہو کر اور اگر اسکے علم میں لائے بغیر والدین نے نکاح کر دیا اسکی اجازت نہیں لی تو نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہو گا اس صورت میں اگر لڑکی نکاح کا سن کر رد کر دے تو نکاح باطل ہو جائے گا اور اگر اجازت دے دے تو نکاح درست ہو جائے گا۔فتاوی عالمگیری میں ہے:لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج. ترجمہ: عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کے باپ یا سلطان کی طرف سے اس کی اجازت کے بغیر کسی ایک سے بھی جائز نہیں چاہے باکرہ ہو یا ثیبہ ہو پس اگر کسی نے ایسا کیا تو نکاح لڑکی کی اجازت پر موقوف ہو گا پس اگر لڑکی نکاح کی اجازت دے دے تو نکاح جائز ہو گا اور اگر وہ نکاح کو رد کر دے تو نکاح باطل ہو جائے گا ایسا ہی سراج الوہاج میں ہے ۔

(الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب الرابع في الأولياء في النكاح، جلد1، صفحہ287،کوئٹہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

7جمادی الاولی 5144 ھ22نومبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں