غریب سید زادے کو زکاۃ کی رقم دینے کا طریقہ

غریب سید زادے کو زکاۃ کی رقم دینے کا طریقہ

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ سید زادے پے زکاۃ حرام ہے تو غریب مفلس سید زادے کو زکاۃ دینے کا کیا طریقہ ہو گا؟

User ID:ثناء خان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ بہتر ہے کہ پاک و صاف مال سادات کی بارگاہ میں پیش کر کے انکی خدمت کر دی جائے البتہ زکاۃ کی رقم ہی دینی ہو تو اس کا شرعی حیلہ یہ ہے کہ زکاۃ کا کسی شرعی فقیر غیر ہاشمی کو مالک بنا دیا جائے جس سے زکاۃ ادا ہو جائے گی اور پھر وہ فقیر سید زادے کی خدمت میں بطور تحفہ نفلی صدقہ رقم پیش کر دے اس طرح زکاۃ بھی ادا ہو جائے گی اور سید زادے کی خدمت بھی ہو جائے گی البتہ بہت مجبوری ہو تو یوں حیلہ ہوسکتا ہے ورنہ حیلے کرکے یوں زکوۃ لگانا درست نہیں۔۔بخاری شریف میں ہے:اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بلحم فقيل: هذا مما تصدق به على بريرة، فقال: هو لها صدقة ولنا هدية ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا، کہا گیا کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا جاتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔

(صحیح البخاری،1493)

سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اسی حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:’’متوسط حال والے اگر مصارف مستحبہ کی وسعت نہیں دیکھتے تو بحمدا ﷲ وُہ تدبیر ممکن ہے کہ زکوٰۃ کی زکوٰۃ ادا ہو اور خدمتِ سادات بھی بجا ہو یعنی کسی مسلمان مصرفِ زکوٰۃ معتمد علیہ کو کہ اس کی بات سے نہ پھرے، مالِ زکوٰۃ سے کچھ روپے بہ نیتِ زکوٰۃ دے کر مالک کردے ، پھر اس سے کہے تم اپنے طرف سے فلاں سیّد کی نذر کر دو اس میں دونو ں مقصود حاصل ہو جائیں گے کہ زکوٰۃ تو اس فقیر کو گئی اوریہ جو سیّد نے پایا نذرانہ تھا، اس کا فرض ادا ہوگیا اور خدمتِ سیّد کا کامل ثواب اسے اور فقیر دونوں کو ملا۔“

(فتاوٰی رضویہ،ج10،ص106-105،رضافاؤنڈیشن، لاہور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

5جمادی الاولی 5144 ھ20 نومبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں