مکروہ وقت میں جنازہ آئے تو جنازہ پڑھنے کا حکم

مکروہ وقت میں جنازہ آئے تو جنازہ پڑھنے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر مکروہ وقت میں جنازہ آئے تو کیا حکم ہے ؟ کیا وقت گزرنے کا انتظار کیا جائے گا؟

User ID:عمر حیات قادری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ اگر مکروہ وقت ہی میں جنازہ آیا ہے تو اسی وقت پڑھنا افضل ہے۔علامہ علاء الدين سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :” الأفضل في صلاة الجنازة أن يؤديها ولا يؤخرها لقوله عليه السلام ثلاث لا يؤخرون الجنازة إذا حضرت“ ترجمہ : ( جب مکروہ وقت میں جنازہ لایا جائے) تو افضل یہ ہے کہ ادا کرے تاخیر نہ کرے حضور علیہ السلام کے فرمان کی وجہ سے کہ تین چیزوں میں تاخیر نہ کی جائے ، جنازہ جب حاضر ہو جائے ۔

(تحفة الفقهاء،باب مواقيت الصلاة، جلد 1، صفحہ 105،مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)

اعلی حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”اگر ان دونوں(نماز جنازہ اور سجدہ تلاوت) کا وجوب ان ہی اوقات ( مکروہہ )میں ہوا ہو تو ان اوقات میں ان کی ادائیگی مکروہِ تحریمی نہیں۔تحفہ میں ہے : افضل یہ ہے کہ جنازہ میں دیر نہ کی جائے۔“(فتاویٰ رضویہ ، باب الجنائز ، جلد 9، صفحہ 186، مطبوعہ ،رضا اکیڈمی ممبئی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

29ربیع الثانی 5144 ھ14نومبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں