عشر کے پیسوں سے روڈ پر نلکا لگوانا

عشر کے پیسوں سے روڈ پر نلکا لگوانا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا عشر کے پیسوں سے روڈ پے پبلک کے لیے نلکا وغیرہ لگوا سکتے ہیں ؟

User ID: محمد نواز صدیقی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ عشر یا کسی بھی صدقہ واجبہ کی رقم سے نلکا وغیرہ نہیں لگوا سکتے کیونکہ صدقات واجبہ جیسے( نذر، کفارہ، فدیہ اور صدقہ فطر،عشر وغیرہ) کے ادا ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے کسی مسلمان، غیر ھاشمی،مستحقِ زکاۃ شخص کو بغیر عوض کے مالک بناکر دیا جائے لہذا اگر عشر کے پیسوں سے نلکا لگوایا تو عشر ادا نہیں ہو گا ۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:”زکاۃ کے مصارف 7 ہیں: فقیر،مسکین،عامل،رقاب،غلام،فی سبیل اللہ،ابن سبیل۔۔۔۔ جن لوگوں کو زکاۃ دینا ناجائز ہے انھیں اور بھی کوئی صدقۂ واجبہ نذر و کفّارہ و فطرہ دینا جائز نہیں ۔۔۔جن لوگوں کی نسبت بیان کیا گیا کہ انھیں زکاۃ دے سکتے ہیں ، اُن سب کا فقیر ہونا شرط ہے، سوا عامل کے کہ اس کے لیے فقیر ہونا شرط نہیں اور ابن السبیل اگرچہ غنی ہو، اُس وقت حکم فقیر میں ہے، باقی کسی کو جو فقیر نہ ہو زکاۃ نہیں دے سکتے۔“

(ملخص از:بہار شریعت جلد1،حصہ5،صفحہ930 تا 938،مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

14جمادی الاولی 5144 ھ30نومبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں