پرانے نوٹوں کے بدلے نئے نوٹ خریدنا

پرانے نوٹوں کے بدلے نئے نوٹ خریدنا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک ہزار کے پرانے نوٹ دے کر نئے نوٹ لیتے ہوئے ہمیں تین سو اوپر دینا پڑتا ہے یہ تین سو روپے دینا جائز ہے یا نہیں ؟

User ID:محمد کاشف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ یہ تین سو روپے زائد دینا جائز ہے جبکہ ہاتھوں ہاتھ ہو کیونکہ نئے نوٹ خرید کر انہیں پرانے نوٹوں کے بدلے زیادہ قیمت پر ہاتھوں ہاتھ بیچ دینا جائز ہے چاہے کسی بھی کرنسی سے ہو ،البتہ ادھار خرید وفروخت جائز نہیں ۔ہدایہ میں ہے:’’یجوز بیع الفلس بالفلسین بأعیانھما ‘‘ یعنی ایک معین سکے کی بیع دو معین سکوں کے ساتھ جائز ہے۔ (الھدایہ،جلد 2 ، الجز الثالث ،صفحہ63،دار احیاء التراث العربی،بیروت)

اسی میں ہے:’’إذا وجد أحدھما و عدم الآخر حل التفاضل و حرم النساءمثل أن یسلم ھرویاً فی ھروی أو حنطۃ فی شعیر ‘‘ یعنی جب سود کی دونوں علتوں (قدر و جنس) میں سے ایک پائی جائے اور دوسری نہ پائی جائے،تو زیادتی جائز ہے اور ادھار حرام ہے ،جیسے ہرات کے بنے ہوئے کپڑے ہرات ہی کے کپڑے کے بدلے بیچنا یا گندم کو جَو کے بدلے بیچنا۔ (الھدایہ،جلد 2 ، الجز الثالث ،صفحہ62،دار احیاء التراث العربی،بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

14جمادی الاولی 5144 ھ30نومبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں