اکیلے نماز پڑھتے ہوئے جماعت کھڑی ہو جائے تو
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ فرض نماز اکیلے پڑھ رہے ہوں اسی حالت میں جماعت شروع ہو جائے تو کیا ہم نماز توڑ کر جماعت سے شامل ہوں یا اپنی نماز جاری رکھیں؟
User ID:فیاض احمد خان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کی مختلف صورتیں بنتی ہیں جس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے علامہ ابن عابدین شامی علیہ رحمہ لکھتے ہیں:”شرع في فرض فأقيم قبل أن يسجد للأولى قطع واقتدى، فإن سجد لها، فإن في رباعي أتم شفعا واقتدى ما لم يسجد للثالثة، فإن سجد أتم واقتدى متنفلا إلا في العصر، وإن في غير رباعي قطع واقتدى ما لم يسجد للثانية، فإن سجد لها أتم ولم يقتد “ترجمہ:فرض شروع کیے اور پہلی رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے جماعت کھڑی ہو گئی تو نماز توڑ دے اور جماعت میں شامل ہو جائے ۔اگر پہلی رکعت کا سجدہ کر لیا ، تو اگر وہ چار رکعتی نماز ہے(یعنی ظہر ،عصراور عشاء) تو دو رکعتیں مکمل کرے اور پھر جماعت میں شامل ہو جب تک تیسری کا سجدہ نہ کر لے۔ اگر (تیسری کا )سجدہ کر لیا تو (چار رکعت)مکمل کرے اور سوائے عصر کےنفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہو، اور اگر وہ چار رکعتی نماز نہ ہو (یعنی فجر یا مغرب ہو )تو جب تک دوسری کا سجدہ نہ کیا ہو ،نماز توڑ دے اور اگر دوسری کا سجدہ کر لیاتو وہی نماز مکمل کرے اور جماعت میں شامل نہ ہو۔
(رد المحتار،کتاب الصلوۃ،باب ادراک الفریضۃ، جلد 2،صفحہ606 ،مطبوعہ کوئٹہ)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
15ربیع الثانی 5144 ھ31 اکتوبر 2023 ء