بلی کنویں میں گر کر زندہ نکل آئے تو پانی کا حکم

بلی کنویں میں گر کر زندہ نکل آئے تو پانی کا حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ اگر بلی کنویں میں گر جائے اور زندہ باہر نکل آئے تو کنویں کے پانی کا کیا حکم ہو گا؟

User ID:سلطان فاطمی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ جب تک بلی پر نجاست کا یقین نہ ہو پانی پاک ہو گا البتہ بہتر ہے کہ بیس ڈول نکال لیے جائیں کہ عین ممکن ہے اس نے اپنا منہ پانی میں مار دیا ہو ۔ اور اگر اس پر نجاست لگی ہوئی تھی تو سارا پانی نکالنا ہو گا۔علامہ عالم بن العلاء الہندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فأرة وقعت في البئر أو عصفورة أو دجاجة أو شاة أو سنور وأخرجت منه حية لايتنجس الماء ولا يجب نزح شيء منه یعنی: کچھ پانی نکال لینا مستحب ہے، اگر چوہا یا چڑیا یا مرغی یا بکری یا بلا کوئیں میں میں گریں اور اس سے زندہ نکل آئیں تو پانی ناپاک نہیں ہو گا اور نہ ہی اس سے پانی نکالنا واجب ہوگا۔

(الفتاوی التاتارخانیہ، کتاب الطهارة، فصل في المياه، جلد1، صفحہ313- 314، مطبوعہ: مکتبہ زکریا)

صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمہ الله علیہ فرماتے ہیں: سوئر کے سوااگر اور کوئی جانور کوئیں میں گرا اور زندہ نکل آیا اور اس کے جِسْم میں نَجاست لگی ہونایقینی معلوم نہ ہو، اور پانی میں اس کا مونھ نہ پڑا تو پانی پاک ہے، اس کا استعمال جائز، مگر اِحْتِیاطاً بیس ۲۰ ڈول نکالنا بہترہے۔ اوراگراس کے بدن پر نَجاست لگی ہونا یقینی معلوم ہو تو کل پانی نکالا جائے۔

(بہار شریعت، حصہ2، جلد1، صفحہ339، مطبوعہ:مکتبۃ المدینه،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

15ربیع الثانی 5144 ھ31 اکتوبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں