ٹھیکے کی زمین میں عشر کا حکم

ٹھیکے کی زمین میں عشر کا حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ٹھیکے کی زمین پر عشر لازم ہو گا یا نہیں ؟اگر لازم ہے تو عشر کھیتی لگانے والے پر لازم ہو گا یا نہیں ؟ یا زمین کے مالک پر لازم ہو گا؟

User ID:مسعود احمد ماروی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ ٹھیکے کی زمین میں بھی کھیتی کرنے والے پر عشر لازم ہو گا کیونکہ عشر کھیتی کی وجہ سے ہوتا ہے چاہے زمین اپنی ہو یا ٹھیکے پر لی ہو لہذا ٹھیکے پر کھیتی کرنا عشر کو ساقط نہیں کرے گا مالک زمین عشر ادا نہیں کرے گا بلکہ کھیتی کرنے والا عشر ادا کرے گا۔صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:’’زمین جو زراعت کے لیے نقدی پر دی جاتی ہے امام کے نزدیک اس کا عشرزمیندار پر ہے اور صاحبین کے نزدیک کاشتکار پراورعلامہ شامی نے یہ تحقیق فرمائی کہ حالت زمانہ کے اعتبار سے اب قول صاحبین پر عمل ہے۔ ‘‘ (بہارشریعت ،جلد1،صفحہ921،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

15ربیع الثانی 5144 ھ31 اکتوبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں