اعضائے وضو کو تین سے زائد بار دھونا
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ وضو میں اعضاء تین سے زائد مرتبہ دھو سکتے ہیں یا نہیں ؟
User IDراجہ محمد عثمان ثانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ اعضائے وضو کو تین مرتبہ دھونا سنت ہے بلا وجہ تین مرتبہ سے زیادہ دھونا مکروہ و خلاف سنت ہے ہاں ضرورتا تین سے زائد مرتبہ دھونے میں حرج نہیں ۔ابن ماجہ میں ہے: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ الْوُضُوءِ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ هَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ و تَعَدَّى أَوْ ظَلَمَترجمہ: ایک اعرابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے وضو کے بارے میں سوال کیا ۔ آپ ﷺ نے اسے تین تین بار ( اعضاء دھو کر ) وضو کر کے دکھایا ، پھر فرمایا :’’ وضو یہ ہوتا ہے ، جس نے اس پر اضافہ کیا ، اس نے برا کیا ، حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا ۔
(سنن ابن ماجہ،ماجاء فی القصد فی الوضوء کراہیۃ التعدی فیہ،جلد1،صفحہ146،حدیث422،الحلبی)
صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ وضو کے مکروہات میں لکھتے ہیں:پانی زیادہ خرچ کرنا یا اتنا کم خرچ کرنا کہ سنت ادانہ ہو ۔۔۔۔ہر سنت کا ترک مکروہ ہے یونہی ہر مکروہ کا ترک سنت ہے۔
(بہار شریعت،جلد1،حصہ2،صفحہ300-301،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
10ربیع الثانی 5144 ھ26 اکتوبر 2023 ء