ناک میں پانی ڈالے بغیر وضو کا حکم

ناک میں پانی ڈالے بغیر وضو کا حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ وضو کرتے ہوئے ناک میں پانی نا ڈالا تو کیا وضو ہو جائے گا؟

User ID: ظفر قمر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ وضو میں کلی نہ کی یا ناک میں پانی نہ چڑھایا تو وضو ہو جائے گا کیونکہ یہ وضو کے فرائض میں شامل نہیں البتہ وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا سنت مؤکدہ ہیں ان کے چھوڑنے کی عادت بنانا گناہ ہے۔در مختار میں ہے:” وھماسنتان مئوکدتان “یعنی اوروہ دونوں(یعنی کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا) سنتِ مئوکدہ ہیں۔

(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الطھارۃ،جلد1،صفحہ253،254 ،لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے:”وضو میں اس کے ترک کی عادت ڈالے سے سنت چھوڑنے ہی کا گناہ ہو گا کہ مضمضہ واستنشاق بمعنی مذکور دونوں وضو میں سنت مؤکدہ ہیں۔۔۔اور سنتِ مؤکدہ کے ایک آدھ بار ترک سے اگرچہ گناہ نہ ہو عتاب ہی کا استحقاق ہو مگر بارہا ترک سے بلا شبہہ گنہگار ہوتا ہے۔۔تاہم وضو ہوجاتا ہے۔“

(فتاوی رضویہ، جلد 1، صفحہ595،596،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

10ربیع الثانی 5144 ھ26 اکتوبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں