مکان کی بنیادوں میں جانور کا خون ڈالنا

مکان کی بنیادوں میں جانور کا خون ڈالنا

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ جب مکان بنانے لگیں تو بنیادوں میں جانور ذبح کرکے اس کا خون ڈالنا چاہیے۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ کیا خون کی جگہ پیسے صدقہ کرسکتے ہیں؟

User ID:حافظ حفیظ اللہ برکاتی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ جانور کے خون کو بنیادوں میں ڈالنے والا یہ عمل فضول و لغو ہے شریعت مطہرہ میں اس کی کوئی اصل نہیں ہاں مکان کی خیر و برکت کے لیے جانور کو ذبح کر کے اس کا گوشت فقراء و مساکین میں صدقہ کر دیں یا اس کی جگہ پیسے صدقہ کر دیں کہ صدقہ کی برکت سے کام احسن طریقہ سے پایہ تکمیل تک پہنچے گا اور بلائیں ٹلیں گی کیونکہ صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اَلصَّدَقَۃُ تَسُدُّ سَبْعِیْنَ بَابًا مِّنَ السُّو ءِ ’’صدقہ برائی کے ستر دروازے بند کرتا ہے۔‘‘

(معجم کبیر ،۴ / ۲۷۴، حدیث: ۴۴۰۲)

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: بَاکِرُوْا بِالصَّدَقَۃِ فَاِنَّ الْبَلَاءَ لَا یَتَخَـطَّی الصَّدَقَۃَ ، ترجمہ: صبح سویرے صَدَقہ دِیا کرو کیونکہ بَلا صَدَقہ سے آگے قدم نہیں بڑھاتی۔

(شُعَبُ الايمان، باب فی الزکاۃ،التحريض علی صدقة التطوع،۳/۲۱۴، حديث:۳۳۵۳)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

4ربیع الثانی 5144 ھ20 اکتوبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں