وتر میں سورتیں کون سی پڑھیں؟
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ وتر کی تینوں رکعتوں میں کون سی سورتیں پڑھی جائیں؟
User ID:سجاد سجاد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ کوئی بھی الگ الگ ترتیب سے سورتیں پڑھ سکتے ہیں البتہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر میں جو سورتیں پڑھنا ثابت ہے انہیں بطور تبرک کبھی کبھار پڑ لینا چاہیے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: عَنْ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – أَنَّهُ أَوْتَرَ بِسَبِّحْ اسْمَ رَبِّك الْأَعْلَى وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» فَيَقْرَأُ أَحْيَانًا هَذَا لِلتَّبَرُّكِ وَأَحْيَانًا غَيْرَ ذَلِكَ لِلتَّحَرُّزِ عَنْ هِجْرَانِ بَاقِي الْقُرْآنِ. كَذَا فِي التَّهْذِيبِ.ترجمہ:وتر میں نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى دوسری میں قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ تیسری میں قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ پڑھی ہے، لہٰذا کبھی تبرکاً انہیں پڑھے اور کبھی اس کے علاوہ اور سورتیں پڑھے باقی قرآن کو چھوڑنے سے بچتے ہوئے۔ ایسا ہی تھذیب میں ہے۔
(’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الرابع، جلد1، صفحہ78)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
6ربیع الثانی 5144 ھ22 اکتوبر 2023 ء