سوتے ہوئے طلاق دی تو طلاق کا حکم
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ کچھ لوگوں کو نیند میں باتیں کرنے کی بیماری ہوتی ہے اگر کوئی ایسا شخص سوتے ہوئے بیوی کو طلاق دے دے تو کیا طلاق ہو جائے گی؟
User ID:عبد الکریم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ سوتے ہوئے طلاق دی تو طلاق واقع نہیں ہو گی کیونکہ سوئے ہوئے بندہ مکلف نہیں ہوتا اس سے اس وقت قلم اٹھا لیا جاتا ہے اس حالت میں اس کے اعمال پر حکم نہیں لگتا۔ جامع ترمذی میں ہے: عن علي رضي اللہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: رفع القلم عن ثلاثۃ: عن النائم حتی یستیقظ … الخ ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں ( یعنی قابل مواخذہ نہیں ہیں) سونے والا جب تک نیند سے بیدار نہ ہوجائے۔۔۔ الخ
(سنن الترمذي / باب ما جاء فیمن لا یجب علیہ الحد ۲،۳۷۹ )
فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے: وطلاق النائم غیر واقع ترجمہ: اور سوتے وقت طلاق دیا تو واقع نہ ہوگی۔
(فتاویٰ تاتارخانیۃ،جلد3،صفحہ187)
صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: سوتے میں طلاق دے دی تو واقع نہ ہوگی۔
(بہارشریعت،جلد2،حصہ8،صفحہ115،مکتبۃالمدینہ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
4ربیع الثانی 5144 ھ20 اکتوبر 2023 ء