کسی مسلمان کو بے ایمان کہنے کا حکم
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ زید نے بکر کو کہا تو بے ایمان ہے تیرا کوئی دین ایمان نہیں دلیل یہ دی کہ تو بات بات پر بدل جاتا ہے ایسا کہنے پر کیا حکم لگے گا؟
User ID:احقر العباد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ مذکورہ جملہ کہنا بندے کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرے گا کیونکہ یہ جملہ عموما آگے والے کی دھوکہ دہی ،خیانت یا کوئی برائی بیان کرنے کے لیے بولا جاتا ہے اگلے کو غیر مسلم سمجھ کر نہیں بولا جاتا جیسا کہ سوال میں واضح کیا گیا کہ تو بات بات پر بدل جاتا ہے اس لیے تجھے یہ کہہ رہا ہوں لہذا یہ جملہ کسی کو بولنے سے بندہ ایمان سے خارج نہیں ہو گا البتہ کسی مسلمان کو یہ الفاظ کہنا جائز نہیں کہ یہ مسلمان کی دل آزاری کرنا ہے جو کہ جائز نہیں ۔بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دینے کے متعلق حدیث پاک میں ہے:’’من اذی مسلماً فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللہ‘‘ترجمہ : جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی، اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی، اس نے اللہ کو ایذا دی ۔ ‘‘
( المعجم الاوسط، باب السین، من اسمہ سعید، جلد 4، صفحہ 60، مطبوعہ قاھرہ )
بے ایمان کہنے کے متعلق بہار شریعت میں ہے:’’کسی کو بے ایمان کہا، تو تعزیر ہو گی اگرچہ عرفِ عام میں یہ لفظ کافر کے معنی میں نہیں، بلکہ خائن کے معنی میں ہے اور لفظِ خائن میں تعزیر ہے ۔ ‘‘
(بہار شریعت، حصہ 9، جلد 2 ، صفحہ 409، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
3ربیع الثانی 5144 ھ19 اکتوبر 2023 ء