میت کو سرد خانے میں رکھنے کا حکم
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ میت کو فریزر میں رکھنا کیسا ہے؟
User ID:سید اکرم عطاری
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں حکم مسئلہ یہ ہے کہ میت کو سردخانے میں رکھنا جائز نہیں کیونکہ جس چیز سے زندہ کو تکلیف ہوتی ہے اس چیز سے مردہ کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور جس طرح زندہ کو بلاوجہِ شَرْعی تکلیف دینا جائز نہیں ہے اسی طرح مردہ کوبھی بلاوجہِ شرعی تکلیف دینا جائز نہیں اور سردخانے میں میت کو رکھنے سے اسے تکلیف ہوتی ہے کیونکہ وہاں درجہ حرارات مائنس ہوتا ہے اور اتنی سردی زندہ کے لیے بھی تکلیف کا باعث ہے تو مردے کو اس میں رکھنے کی شرعا اجازت نہیں ہو گی بلکہ حکم شرع ہے کہ جتنا جلد ہو سکے میت کو دفن کیا جائے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: “اَسرِعوا بالجنازۃ فان تک صالحۃ فخیر تقدمونھا وان یک سوی ذالک فشرٌّ تضعونہ عن رقابکم” (متفق علیہ)۔ یعنی جنازہ لے جانے میں جلدی کرو۔ اگر وہ نیک ہے تو بھلائی ہے جسے تم آگے بھیج رہے ہو اور اگر وہ اس کے کچھ اور ہے تو ایک بری چیز ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔
(مشکوۃ شریف، باب المشی بالجنازۃ، صفحہ144)
ردالمحتار میں ہے : “لان المیت یتأذی مما یتأذی بہ الحی” یعنی اس لیے کہ مردے کو اس سے ایذا ہوتی ہے جس سے زندہ کو ایذا ہوتی ہے۔ (ردالمحتار، جلد۱،صفحہ229، ادارۃ الطباعۃ المصریہ)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
2 ربیع الثانی5144 ھ18 کتوبر 2023 ء