تین ماہ کا حمل ضائع ہو تو خون کا حکم

تین ماہ کا حمل ضائع ہو تو خون کا حکم

سوال: تین ماہ کا حمل ضائع ہو جائے تو آنے والا خون حیض ہے یا نفاس یا استحاضہ؟

User ID:محمد مہتاب انجم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

تین ماہ کا حمل ساقط ہو گیا تو آنے والا خون نفاس نہیں کہلائے گا کیونکہ نفاس کے خون کے لیے یہ شرط ہے کہ بچے کا ایک عضو (ہاتھ،پاؤں،انگلیاں) بن چکا ہو اور اعضاء کا بننا فقہائے کرام رحمھم اللہ السلام کی تصریحات کے مطابق 120 دن کے بعد ہی شروع ہوتا ہےاس سے پہلے نہیں ہوتا اور اگر یہ خون تین دن تک جاری رہتا ہے تو اس صورت میں یہ خون حیض کا شمار ہوگا،جبکہ اس سے پہلے پاکی کے پندرہ ایام گزر چکے ہوں اور اگر خون تین دن سے کم آیا یا پاکی کے ایام پندرہ نہیں گزرے تو یہ خون استحاضہ ہو گا۔۔ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:”(وسقط ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، ولا يستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوما (ولد) حكما (فتصير) المرأة (به نفساء)۔۔۔۔فإن لم يظهر له شيء فليس بشيء، والمرئي حيض إن دام ثلاثا وتقدمه طهر تام وإلا استحاضة “یعنی حمل ساقط ہوا اور اس کا کوئی عضو بن چکا تھا جیسے ہاتھ یا پاؤں یا انگلیاں یا ناخن یا بال،تو اس صورت میں وہ حکماً بچہ کہلائے گا اور عورت آنے والے خون کے ذریعے نفاس والی شمار ہوگی۔ یاد رہے کہ ایک سو بیس دن کے بعد ہی عضو کا بننا ظاہر ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔اور اگر اس حمل کا کوئی عضو ظاہر نہیں ہوا تھا تو اس صورت میں نفاس کا حکم نہیں ہوگا۔ البتہ اس صورت میں اگر یہ آنے والا خون تین دن تک جاری رہے اور اس سے پہلے پاکی کے پندرہ دن گزر چکے ہوں تو یہ خون حیض کا شمار ہوگا، ورنہ پھر استحاضہ کا شمار ہوگا ۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الطھارۃ، ج01،ص551-549،مطبوعہ کوئٹہ، ملخصاً و ملتقطاً)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

20صفر المظفر5144 ھ6 جولائی 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں