کسی کے مرنے پر چالیس دن کسی کو کھانا کھلانا

کسی کے مرنے پر چالیس دن کسی کو کھانا کھلانا

سوال: کسی کے مرنے پر جو چالیس دن تک ایک غریب کو کھانا کھلایا جاتا ہے اس کا کیا شرعی حکم ہے؟

User ID:حافظ محمد عرفان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں یہ کھانا کھلانا میت کے ایصال ثواب کے لیے ہو تو بلکل جائز و کار ثواب ہے کیونکہ بھوکے کو کھانا کھلانا بہت بڑی نیکی ہے اور اپنی ہر نیکی کا ثواب بندہ ایصال کر سکتا ہے البتہ یہ کھانا کھلانا شریعت کی طرف سے لازم نہیں اور نہ ہی اسے لازم سمجھ کر کیا جائے بلکہ ثواب کی نیت سے کھانا کھلایا جائے۔ حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے، اللّٰہ تعالیٰ اُسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کوپانی پلائے گا، اللّٰہ تعالیٰ اُسے رحیقِ مختوم (یعنی جنت کی سر بند شراب) پلائے گا۔

( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، ۱۸-باب، ۴ / ۲۰۴، الحدیث: ۲۴۵۷)

اورحضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مغفرت لازم کر دینے والی چیزوں میں سے بھوکے مسلمان کو کھانا کھلانا ہے۔

( مستدرک، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ البلد، اطعام المسلم السغبان… الخ، ۳ / ۳۷۲، الحدیث: ۳۹۹۰)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

29صفر المظفر5144 ھ16 جولائی 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں