خواجہ سرا ،کی امامت کا حکم

خواجہ سرا ،کی امامت کا حکم

سوال: کیا خواجہ سرا،امامت کروا سکتا ہے؟

User ID:احتشام طیب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

خواجہ سرا،اگر ایسا ہو کہ اس میں مرد کی علامات غالب ہوں تو وہ مرد ہی ہے اور بقیہ شرائط پائی جائیں تو مردوں کی امامت کروا سکتا ہے اور اگر اس میں عورتوں کی علامات غالب ہوں یا خنثی مشکل ہو(یعنی مرد و عورت دونوں کی علامات ہوں اور کوئی جانب راجح نہ ہو کہ مرد ہے یا عورت) تو مردوں کی امامت نہیں کروا سکتا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: امامۃ الخنثی المشکل للنساء جائزۃ ۔۔۔و للرجال و الخنثی مثلہ لا یجوز ترجمہ: خنثی مشکل(جس میں مرد و عورت دونوں کی علامات پائی جائیں کوئی جانب راجح نہ ہو)کا عورتوں کی امامت کروانا جائز ہے اور مردوں یا اپنے جیسے خنثی مشکل کی امامت کروانا جائز نہیں ۔

(فتاوی ہندیہ،کتاب الصلاۃ ،الباب الخامس فی الامامۃ ،الفصل الثالث ،جلد1،صفحہ85،دارالفکر،بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

8ربیع الاول 5144 ھ26 ستمبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں