کھانا حاضر ہو تو جماعت سے نماز

کھانا حاضر ہو تو جماعت سے نماز

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی دعوت پر جائیں اور کھانا سامنے آ جائے اور جماعت کا وقت ہو جائے تو کیا حکم ہے ؟

User ID:محمد فرقان اعوان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ کھانا حاضر ہو اور کھانے کی طرف نفس مائل ہو تو جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا واجب نہیں ،جماعت چھوڑ کر کھانا ،کھایا تو گنہگار نہیں ہوں گے کیونکہ یہ ترک جماعت کا عذر ہے ۔صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: (1) مریض جسے مسجد تک جانے میں مشقت ہو (2) اپاہج ۔۔۔ (18) کھانا حاضر ہے اور نفس کو اس کی خواہش ہو (19) قافلہ چلے جانے کا اندیشہ ہو (20) مریض کی تیمارداری کہ جماعت کے لئے جانے سے اس کو تکلیف ہوگی اور گھبرائےگا یہ سب ترک جماعت کے لئے عذر ہیں ۔ (بہارشریعت،جلد1،حصہ3،صفحہ583ـ584،مکتبۃالمدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

12ربیع الاول 5144 ھ29ستمبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں