وضو سے پہلے تسمیہ کی شرعی حیثیت
کیا فرماتےہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ وضو سے قبل بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یعنی یہ سنت موکدہ ہے یا مستحب ؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعوان الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کسی نے وضو سے پہلے تسمیہ نہیں پڑھی تو اس کا وضو ہو جائے گا وضو میں بسم الله پڑھنے کے متعلق بعض فقہاء نے سنت لکھا اور بعض نے مستحب اور اصح قول پر وضو سے پہلے تسمیہ پڑھنا مستحب ہے اور سنت سے مراد سنت مستحبہ ہے ،سنت موکدہ نہیں۔
اللباب میں ہے
” وسنن الطهارة:۔۔وتسمیۃ اللہ تعالی ابتداء والسواک“
ترجمہ:طہارت کی سنتیں:اور شروع میں بسم اللہ پڑھنا اور مسواک کرنا۔(اللباب،جلد1،صفحہ9، المكتبة العلمية، بيروت)
اور صاحب قدوری کتاب الطہارت میں وضو کی سنت بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں
”وتسمیۃ اللہ تعالی فی ابتداء الوضوء“
اور وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھناسنت ہے۔
صاحب ہدایہ علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
”قال وتسمية الله تعالى في ابتداءالوضوء لقوله عليه السلام.لاوضو لمن لم يسم والمراد به نفي الفضيلة،والاصح انھامستحبة وان سماھا فی الکتاب سنة ويسمى قبل الاستنجاء وبعده ھوالصحيح “
ترجمہ: فرمایا اور ابتدائے وضو میں اللہ کا نام لینا سنت ہے اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اس کا وضو نہیں جس نے اللہ کا نام نہیں لیا اس سے مراد افضلیت کی نفی ہے اور اصح یہ ہے کہ تسمیہ مستحب ہے اگرچہ صاحب قدوری نے کتاب قدوری میں اسے کو سنت کہا ہے اور تسمیہ استنجا سے پہلے بھی پڑھے اور اس کے بعد یہی صحیح ہے۔ (الهداية في شرح بداية المبتدي، جلد1،صفحہ15،دار احياء التراث العربي،بيروت)
الجوہرہ میں ہے
” (قوله: وتسمية الله تعالى في ابتداء الوضوء) الكلام فيها في ثلاثة مواضع كيفيتها وصفتها ووقتها أما كيفيتها فبسم الله العظيم والحمد لله على دين الإسلام، وإن قال بسم الله الرحمن الرحيم أجزأه؛ لأن المراد من التسمية هنا مجرد ذكر اسم الله تعالى لا التسمية على التعيين وأما صفتها فذكر الشيخ أنها سنة واختار صاحب الهداية أنها مستحبة قال وهو الصحيح“ (الجوهرة النيرة،جلد1،صفحہ5،المطبعة الخيرية)
ردالمختار میں ہے
”ما ذکرہ المصنف من ان البداءہ بالتسمیہ سنہ ھو مختار الطحطاوی و کثیر من المتاخرین ورجح فی الھدایۃ ندبھا قیل وھو ظاھر الروایہ وتعجب صاحب البحر من المحقق ابن الھمام حیث رجح ھنا وجوبا ثم ذکر باب شروط الصلاۃ ان الحق ما علیہ علماونا من انھا مستحبہ کیف وقد قال امام احمد لا اعلم فیھا حدیثا ثابتا“
ترجمہ: مصنف نے جو ذکر کیا ہے کہ تسمیہ سے آغاز کرنا سنت ہے یہ طحطاوی اور بہت سے متاخرین علماء کا مختار قول ہے ہدایہ میں اس کے ندب(مستحب) ہونے کو ترجیح دی گئی ہے بعض نے فرمایا یہی ظاہر الروایہ ہے نہر۔صاحب البحر نے محقق ابن الھمام پر تعجب کیا جہاں انہوں نے تسمیہ کے وجوب کو ترجیح دی ہے پھر باب شروط الصلاۃ میں ذکر کیا ہے حق وہی ہے جو ہمارے علماء کا نظریہ ہے کہ یہ مستحب ہے اور یہ مستحب کیسے نہ ہو جب کہ امام احمد نے فرمایا کہ اس کے متعلق کوئی حدیث میرے علم میں نہیں ہے۔(ردالمختار ،کتاب الطھارۃ ،جلد 1، صفحہ 243،دار المعرفۃ ، بیروت)
الحلیہ المحلی شرح منیہ المصلی میں ہے
” غایۃ مایفیدہ الاستدلال الماضی بقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ولا وضوءلمن لم یذکر اسم اللّٰہ علیہ الاستحباب فانہ کما یثبت نفی الفضیلۃ والکمال بترک السنۃ یثبت بترک المستحب فی الجملۃ فیترجح بھذا البحث القول بالاستحباب“
ترجمہ : اسی طر ح حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد” اس کا وضو نہیں جس نے وضو پر خدا کا نام نہ ذکر کیا ” سے سابقا جو استدلال ہے اس سے زیادہ سے زیادہ استحباب مستفاد ہوتا ہے اس لئے کہ کامل وافضل وضو ہونے کی نفی جیسے ترک سنت سے ثابت ہوتی ہے فی الجملہ ترک مستحب سے بھی ثابت ہوتی ہے تو اس بحث سے اس کے استحباب ہی کا قول ترجیح پاتا ہے۔(الحلیہ المحلی شرح منیہ المصلی ،جلد 1،صفحہ 15، مطبوعہ ،بیروت)
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:”حنفیہ کے نزدیک وُضو میں بسم اللہ کہنا اور نیّت سنت ہے۔“
(بہارشریعت، جلد اول، حصہ دوم، صفحہ 283،مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
07 ربیع الآخر 1445ھ23اکتوبر 2023ء
نظر ثانی و ترمیم:
مفتی محمد انس رضا قادری