گروی رکھی ہوئی چیز کی زکوۃ کا کیا حکم ہے اور اس کو چھڑانے کے بعد کیا حکم ہے؟

گروی رکھی ہوئی چیز کی زکوۃ کا کیا حکم ہے اور اس کو چھڑانے کے بعد کیا حکم ہے؟

جو چیز گروی رکھی ہو اس کی زکوۃ نہ گروی رکھنے والے پر ہے نہ اس پر جس کے پاس گروی رکھی گئی اور رہن چھڑانے کے بعد پچھلے سالوں کی زکوۃ بھی واجب نہیں البتہ وہ چیز اگر اموال زکوۃ میں سے ہے تو واپس ملنے کے بعد نصاب کے سال کے اختتام پر اس کا شمار کرنا ہوگا۔بہار شریعت میں ہے:” شے مرہُون کی زکاۃ نہ مرتہن پر ہے، نہ راہن پر، مرتہن تو مالک ہی نہیں اور راہن کی ملک تام نہیں کہ اس کے قبضہ میں نہیں اور بعد رہن چھڑانے کے بھی ان برسوں کی زکاۃ واجب نہیں۔“

(بہار شریعت،جلد1،صفحہ877)

Add your Comment