کیا عورت کا اپنے پھوپھاسے پردہ ہےاور کیا پھوپھا بالغ لڑکیوں سےبے تکلفی سے بات چیت کرسکتا ہے؟اور کیا پھوپھا سے نکاح کیا جا سکتا ہے؟
عورت کا اپنے پھوپھا سے پردہ ہے بلکہ اجنبی کے مقابلے میں ایسے نامحرم رشتے داروں سے احتیاط کی زیادہ حاجت ہے۔پھوپھا کوبالغ لڑکیوں سے بےتکلفی کے ساتھ بات کرنے کی اجازت نہیں،نیز پھوپھی جب تک پھوپھا کے نکاح میں ہے اس نکاح حرام ہے۔امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:” جی ہاں۔بلکہ ان سے تو پردہ کے مُعامَلہ میں احتياط زيادہ ہونی چاہئے کیوں کہ آشنائی(یعنی جان پہچان) کے سبب جِھجک اُڑی ہوئی ہوتی ہے اور یوں ناواقِف آدَمی کے مقابلے میں کئی گُنا زیادہ فِتنے کا خطرہ ہو تا ہے۔۔الخ“
(پردے کے بارے میں سوال جواب،صفحہ48)
اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:” جیٹھ، دیور، بہنوئی ، پھپا، خالو، چچازاد، ماموں زاد پھپی زاد ، خالہ زاد بھائی یہ سب لوگ عورت کے لئے محض اجنبی ہیں بلکہ ان کاضرر نرے بیگانے شخص کے ضرر سے زائد ہے کہ محض غیر آدمی گھر میں آتے ہوئے ڈرے گا اور یہ آپس کے میل جول کے باعث خوف نہیں رکھتے عورت نرے اجنبی شخص سے دفعۃً میل نہیں کھا سکتی اور ان سے لحاظ ٹوٹا ہوتا ہے۔
(فتاوی رضویہ،جلد22،صفحہ217)
مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”جب فاطمہ(پھوپھی)کا انتقال ہوگیاتو زینب کا اپنے پھوپھا سے نکاح کرنا جائز ہے بشرطیکہ رضاعت وغیرہ کوئی اور وجہ مانع نکاح نہ ہو۔۔الخ“ (فتاوی فیض الرسول،جلد1،صفحہ591)