سورہ زمر میں ایک آیت ہے کہ اللہ پاک زندوں کی روحیں ان کے سوتے میں قبض فرماتا ہے اس کا کیا معنی ہے؟

سورہ زمر میں ایک آیت ہے کہ اللہ پاک زندوں کی روحیں ان کے سوتے میں قبض فرماتا ہے اس کا کیا معنی ہے؟

سورہ زمر کی مذکورہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ پاک زندوں کو وفات دیتا ہے ان کی نیند کے وقت کیونکہ نیند ایک طرح کی موت ہے۔اللہ کریم فرماتا ہے:” اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَاۚ-فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ“ترجمہ:اللہ جانوں کوان کی موت کے وقت وفات دیتا ہے اور جو نہ مریں انہیں ان کی نیند کی حالت میں پھر جس پر موت کا حکم فرمادیتا ہے اسے روک لیتا ہے اور دوسرے کو ایک مقرر ہ مدت تک چھوڑ دیتا ہے ۔بیشک اس میں ضرور سوچنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔

(زمر:22)

تفسیر:” اللہ تعالیٰ جانوں کو ان کی زندگی کی مدت پوری ہو جانے پر روح قبض کر کے وفات دیتا ہے اور جن کی موت کا وقت ابھی تک نہیں آیا انہیں ان کی نیند کی حالت میں ایک قسم کی وفات دیتاہے،پھر جس پر حقیقی موت کا حکم فرمادیتا ہے تو اس کی روح کو اس کے جسم کی طرف واپس نہیں کرتا اور جس کی موت مقدر نہیں فرمائی تو اس کی روح کو موت کے وقت تک کیلئے اس کے جسم کی طرف لوٹادیتا ہے۔بیشک اس میں ضرور ان لوگوں کیلئے نشانیاں ہیں جو سوچیں اور سمجھیں کہ جو اس پر قادر ہے وہ ضرور مُردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔“

(صراط الجنان،جلد8،صفحہ474)

Add your Comment