امام کا رائج قراءت کے علاوہ قراءت کرنا کیسا؟
جس جگہ جو قراءت معروف ہے وہاں کے لوگوں کو وہی پڑھنے کا حکم ہے بالخصوص لوگوں کے سامنے غیر معروف قراءت نہ کی جائے کہ اس میں ان کے دین کا تحفظ ہے۔بہار شریعت میں ہے:” ساتوں قرأتیں جائز ہیں، مگر اولیٰ یہ ہے کہ عوام جس سے نا آشنا ہوں وہ نہ پڑھے کہ اس میں ان کے دین کا تحفظ ہے، جیسے ہمارے یہاں قراءت امام عاصم بروایتِ حفص رائج ہے، لہٰذا یہی پڑھے۔“
(بہار شریعت،جلد1،صفحہ547)